جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا
جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا
تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہوگا
غم ہجر رکھے گا بے تاب دل کو
ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہوگا
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق
کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہوگا
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی
کبھو تو تہ دل سے بھی یار ہوگا
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا
کہ اس سنگ دل سے ہمیں پیار ہوگا
لگا کرنے ہجران سختی سے سختی
خدا جانے کیا آخر کار ہوگا
یہی ہوگا کیا ہوگا میرؔ ہی نہ ہوں گے
جو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا

میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از میر تقی میر
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…