چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

دہر میں میں خاک بسر ہی رہا

عمر کو اس طور بسر کر گیا

دل نہیں ہے منزل سینہ میں اب

یاں سے وہ بیچارہ سفر کر گیا

حیف جو وہ نسخۂ دل کے اپر

سرسری سی ایک نظر کر گیا

کس کو مرے حال سے تھی آگہی

نالۂ شب سب کو خبر کر گیا

گو نہ چلا تا مژۂ تیر نگہ

اپنے جگر سے تو گزر کر گیا

مجلس آفاق میں پروانہ ساں

میرؔ بھی شام اپنی سحر کر گیا

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دل گئے آفت آئی جانوں پر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

Dil gaye aafat aayi jaanon par

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…