کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

جرس راہ میں جملہ تن شور ہے

مگر قافلے سے کوئی دور ہے

تمنائے دل کے لیے جان دی

سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے

نہ ہو کس طرح فکر انجام کار

بھروسہ ہے جس پر سو مغرور ہے

پلک کی سیاہی میں ہے وہ نگاہ

کسو کا مگر خون منظور ہے

دل اپنا نہایت ہے نازک مزاج

گرا گر یہ شیشہ تو پھر چور ہے

کہیں جو تسلی ہوا ہو یہ دل

وہی بے قراری بدستور ہے

نہ دیکھا کہ لوہو تھنبا ہو کبھو

مگر چشم خوں بار ناسور ہے

تنک گرم تو سنگ ریزے کو دیکھ

نہاں اس میں بھی شعلۂ طور ہے

بہت سعی کریے تو مر رہیے میرؔ

بس اپنا تو اتنا ہی مقدور ہے

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دل گئے آفت آئی جانوں پر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

Dil gaye aafat aayi jaanon par

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…