دل گئے آفت آئی جانوں پر

دل گئے آفت آئی جانوں پر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

عشق میں ہوش و صبر سنتے تھے

رکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر

گرچہ انسان ہیں زمیں سے ولے

ہیں دماغ ان کے آسمانوں پر

شہر کے شوخ سادہ رو لڑکے

ظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر

عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلند

سیر رہتی ہے ان مکانوں پر

جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاع

بھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر

لوگ سر دینے جاتے ہیں کب سے

یار کے پاؤں کے نشانوں پر

کجی اوباش کی ہے وہ دربند

ڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر

کوئی بولا نہ قتل میں میرے

مہر کی تھی مگر دہانوں پر

یاد میں اس کے ساق سیمیں کی

دے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر

تھے زمانے میں خرچی جن کی رپے

پھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر

غم و غصہ ہے حصے میں میرے

اب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر

قصے دنیا میں میرؔ بہت سنے

نہ رکھو گوش ان فسانوں پر

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…