ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات

ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات

پر ہم سے تو تھنبے نہ کبھو منہ پر آئی بات

جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر

تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات

لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے

رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات

کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک

وہ آ گیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات

اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا

واں تو نے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات

بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے

پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات

بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے

کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات

عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب

یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات

اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار

سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات

اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو

جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات

خط لکھتے لکھتے میرؔ نے دفتر کیے رواں

افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…