ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج
ناز کرتی ہے بے قراری آج
اڑ گیا خاک پر غبار اپنا
ہو گئی خاک خاکساری آج
نزع ہے اور روز وعدۂ وصل
ہے بہر طور دم شماری آج
مانع قتل کیوں ہوا دشمن
جان ہی جائے گی ہماری آج
تیرے آتے ہی دم میں دم آیا
ہو گئی یاس امیدواری آج
کوئی بھینچے ہے دل کو پہلو میں
کس نے کی اس سے ہم کناری آج
اس کے شکوے سے ہے اثر ظاہر
کچھ تو کہتی ہے آہ و زاری آج
اک نئی آرزو کا خون ہوا
ہم ہیں اور تازہ سوگواری آج
چھٹ گئے مر کے نیش ہجراں سے
کام آیا ہے زخم کاری آج
بیکسی کیوں ہے نعش پر مجمع
کیا ہوئی تو مری پیاری آج
بھولے حضرت نصیحت اے ناصح
ہے کسی کی تو یادگاری آج
مومنؔ اس بت کو دیکھ آہ بھری
کیا ہوا لاف دین داری آج

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
← مکمل پروفائل دیکھیں