لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

نہ جاؤں گا کبھی جنت میں میں نہ جاؤں گا

اگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا

کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جور

کہ آب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا

یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقت

دعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا

لگے ان آنکھوں سے ہر وقت اے دل صد چاک

ترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا

ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخ

مرا سرور ہے گل‌‌ خندۂ شرر کا سا

یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتا

مرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا

جنوں کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احباب

ہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا

خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پر

نشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا

دل ایسے شوخ کو مومنؔ نے دے دیا کہ وہ ہے

محب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Ghazal

سودا تھا بلائے جوش پر رات

بستر پہ بچھائے نیشتر رات

Sauda tha balaae josh par raat

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…