ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

چھوڑا نہ کچھ بھی سینے میں طغیان اشک نے

اپنی ہی فوج ہو گئی لشکر غنیم کا

یاران نو کے واسطے مجھ سے خفا ہوئے

تم کو نہیں ہے پاس نیاز قدیم کا

یاد آئی کافروں کو مری آہ سرد کی

کیونکہ نہ کانپنے لگے شعلہ جحیم کا

از بس کہ ثبت نامہ ہے سوز تپ دروں

قاصد کا ہاتھ ہے ید بیضا کلیم کا

واعظ کبھی ہلا نہیں کوئے صنم سے میں

کیا جانوں کیا ہے مرتبہ عرش عظیم کا

مارا ہے وصل غیر کے شکوے پہ چاہیئے

مدفن جدا جدا مری لاش دو نیم کا

کہتا ہے بات بات پہ کیوں جان کھا گئے

گویا کہ پک گیا ہے کلیجہ ندیم کا

واعظ بتوں کو خلد میں لے جائیں گے کہیں

ہے وعدہ کافروں سے عذاب الیم کا

مومنؔ تجھے تو وہب ہے مومن ہی وہ نہیں

جو معتقد نہیں تری طبع سلیم کا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

Ta na pare khalal kahin aap ke khwaab-e-naaz mein

Ghazal

سودا تھا بلائے جوش پر رات

بستر پہ بچھائے نیشتر رات

Sauda tha balaae josh par raat

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…