مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے
اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے
اِک نظر دیکھ لوُں آجاؤ قضا سے پہلے
تم سے مِلنے کی تمنّا ہے خُدا سے پہلے
حشر کے روز میں پُوچھونگا خُدا سے پہلے
تُو نے روکا نہیں کیوں مجھ کو خطا سے پہلے
اے مِری موت ٹھہر اُن کو ذرا آنے دے
زہر کا جام نہ دے مجھ کو دوا سے پہلے
ہاتھ پہنچے بھی نہ تھے زُلفِ دوتا تک مومن
ہتھکڑی ڈال دی ظالم نے قضا سے پہلے

Momin Khan Momin
مومن خاں مومن
A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از Momin Khan Momin
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…