تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں

ہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں

اور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کا

خون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں

کیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہو

آہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں

خسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کن

اپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں

بن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہے

نغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں

ان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیں

سن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں

کیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکے

بوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں

پردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیں

ہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں

رخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہے

رخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں

یاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی تو

بیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

مار ہی ڈال مجھے چشمِ ادا سے پہلے

اپنی منزل کو پہنچ جاؤں قضا سے پہلے

Maar hi daal mujhe chashm-e-ada se pehle

Ghazal

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

فلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

Lage khadang jab is naala-e-sehar ka sa

Ghazal

ہوئی تاثیر آہ و زاری کی

رہ گئی بات بے قراری کی

Hui taaseer-e-aah-o-zaari ki

Ghazal

جوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

اے باد صبا میری کروٹ تو بدل جانا

Jyon nakhwat-e-gul jumbish hai ji ka nikal jaana

Ghazal

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

Hum rang-e-laaghari se hun gul ki shameem ka

Ghazal

سودا تھا بلائے جوش پر رات

بستر پہ بچھائے نیشتر رات

Sauda tha balaae josh par raat

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…