وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے

وہ کہاں ساتھ سلاتے ہیں مجھے

خواب کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے

اس پری وش سے لگاتے ہیں مجھے

لوگ دیوانہ بناتے ہیں مجھے

یا رب ان کا بھی جنازہ اٹھے

یار اس کو سے اٹھاتے ہیں مجھے

ابروئے تیغ سے ایما ہے کہ آ

قتل کرنے کو بلاتے ہیں مجھے

بے وفائی کا عدو کی ہے گلہ

لطف میں بھی وہ ستاتے ہیں مجھے

حیرت حسن سے یہ شکل بنی

کہ وہ آئینہ دکھاتے ہیں مجھے

پھونک دے آتش دل داغ مرے

اس کی خو یاد دلاتے ہیں مجھے

گر کہے غمزہ کسے قتل کروں

تو اشارت سے بتاتے ہیں مجھے

میں تو اس زلف کی بو پر غش ہوں

چارہ گر مشک سنگھاتے ہیں مجھے

شعلہ رو کہتے ہیں اغیار کو وہ

اپنے نزدیک جلاتے ہیں مجھے

جاں گئی پر نہ گئی جورکشی

بعد مردن بھی دباتے ہیں مجھے

وہ جو کہتے ہیں تجھے آگ لگے

مژدۂ وصل سناتے ہیں مجھے

اب یہ صورت ہے کہ اے پردہ نشیں

تجھ سے احباب چھپاتے ہیں مجھے

مومنؔ اور دیر خدا خیر کرے

طور بے ڈھب نظر آتے ہیں مجھے

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…