ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

پر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

تو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تک

یہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کچھ غیر سے ہونٹوں میں کہے ہے یہ جو پوچھو

تو ووہیں مکرتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کب پاس پھٹکنے دوں رقیبوں کو تمہارے

پر پاس تمہارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ناصح کو جو چاہوں تو ابھی ٹھیک بنا دوں

پر خوف خدا کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کیا کیا نہ کہے غیر کی گر بات نہ پوچھو

یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کیا کہئے نصیبوں کو کہ اغیار کا شکوہ

سن سن کے وہ چپکا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

مت پوچھ کہ کس واسطے چپ لگ گئی ظالم

بس کیا کہوں میں کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

چپکے سے ترے ملنے کا گھر والوں میں تیرے

اس واسطے چرچا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ہاں تنگ دہانی کا نہ کرنے کے لیے بات

ہے عذر پر ایسا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

اے چارہ گرو قابل درماں نہیں یہ درد

ورنہ مجھے سودا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

ہر وقت ہے دشنام ہر اک بات میں طعنہ

پھر اس پہ بھی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

کچھ سن کے جو میں چپ ہوں تو تم کہتے ہو بولو

سمجھو تو یہ تھوڑا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

سنتا نہیں وہ ورنہ یہ سرگوشی اغیار

کیا مجھ کو گوارا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

مومنؔ بخدا سحر بیانی کا جبھی تک

ہر ایک کو دعویٰ ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…