چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

آرزوئے نظارہ تھی تو نے

اتنی ہی بات پر چھپایا منہ

دشمنوں سے بگڑ گئی تو بھی

دیکھتے ہی مجھے بنایا منہ

بات پوری بھی منہ سے نکلی نہیں

آپ نے گالیوں پہ کھولا منہ

ہو گیا راز عشق بے پردہ

اس نے پردے سے جو نکالا منہ

شب غم کا بیان کیا کیجئے

ہے بڑی بات اور چھوٹا منہ

جب کہا یار سے دکھا صورت

ہنس کے بولا کہ دیکھو اپنا منہ

کس کو خون جگر پلائے گا

ساغر مے کو کیوں لگایا منہ

پھر گئی آنکھ مثل قبلہ نما

جس طرف اس صنم نے پھیرا منہ

گھر میں بیٹھے تھے کچھ اداس سے وہ

بولے بس دیکھتے ہی میرا منہ

ہم بھی غمگین سے ہیں آج کہیں

صبح اٹھے تھے دیکھ تیرا منہ

سنگ اسود نہیں ہے چشم بتاں

بوسہ مومنؔ طلب کرے کیا منہ

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Ghazal

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا

Ae aarzoo-e-qatl zara dil ko thaamnaa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…