غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

کیا شب انتظار ہونا تھا

ناحق امیدوار ہونا تھا

کیوں نہ ہوتے عزیز غیر تمہیں

میری قسمت میں خوار ہونا تھا

مجھ سے جنت میں وہ صنم نہ ملا

حشر اور ایک بار ہونا تھا

گر نہ تھی اے دل اس کے رنج کی تعب

کیوں شکایت گزار ہونا تھا

خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتا

اس کے در کا غبار ہونا تھا

ہرزہ گردی سے ہم ذلیل ہوئے

چرخ کا اعتبار ہونا تھا

مرگ شام وصال حرماں ہے

صبح دم جاں نثار ہونا تھا

اور سے ہمکنار ہے دشمن

آج تو ہمکنار ہونا تھا

شکوۂ دہر پر کہا تم کو

آفت روزگار ہونا تھا

چشم بے اختیار جاناں میں

کیا مرا اختیار ہونا تھا

صبر کر صبر ہو چکا جو کچھ

اے دل بے قرار ہونا تھا

کوئے دشمن میں جا پکڑتا کیوں

کیا مجھے شرمسار ہونا تھا

وہ نمک پاش بھی نہیں ہوتے

یوں ہی دل کو فگار ہونا تھا

خاک میں حیف یہ شراب ملے

محتسب بادہ خوار ہونا تھا

نہ گیا تیر نالہ سوئے رقیب

مرغ عرشی شکار ہونا تھا

رات دن بادہ و صنم مومنؔ

کچھ تو پرہیزگار ہونا تھا

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا

Ae aarzoo-e-qatl zara dil ko thaamnaa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…