غزل2 منٹ کا مطالعہ

رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے

رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے

دل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے

مری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کب

مرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے

جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منہ میں ترے نہاں

تری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے

رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا

سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے

کہیں گے کہو تمہیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدا

نہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منہ سے حجاب ہے

چلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیں

لب نا توواں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے

نہیں کھلتیں آنکھیں تمہاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو

یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے

گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سب

تجھے کرنا ہووے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے

کبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیا

یہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے

تو جہاں کے بحر عمیق میں سر پر ہوا نہ بلند کر

کہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے

رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کی

کہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے

مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا

جسے میرؔ کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…