غزل1 منٹ کا مطالعہ

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

شاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نے

نامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا

وحشی مزاج از بس مانوس بادیہ ہیں

ان کے جنوں میں جنگل اپنا ہوا ہے گھر سا

جس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہ

اس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا

سب پیچ کی یہ باتیں ہیں شاعروں کی ورنہ

باریک اور نازک مو کب ہے اس کمر سا

طرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کے

کیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا

تم واقف طریق بے طاقتی نہیں ہو

یاں راہ دو قدم ہے اب دور کا سفر سا

کچھ بھی معاش ہے یہ کی ان نے ایک چشمک

جب مدتوں ہمارا جی دیکھنے کو ترسا

ٹک ترک عشق کریے لاغر بہت ہوئے ہم

آدھا نہیں رہا ہے اب جسم رنج فرسا

واعظ کو یہ جلن ہے شاید کہ فربہی سے

رہتا ہے حوض ہی میں اکثر پڑا مگر سا

انداز سے ہے پیدا سب کچھ خبر ہے اس کو

گو میرؔ بے سر و پا ظاہر ہے بے خبر سا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…