غزل1 منٹ کا مطالعہ

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

گوہر گوش کسو کا نہیں جی سے جاتا

آنسو موتی سے مرے منہ پہ ڈھلے جاتے ہیں

یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہم

سب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں

بار حرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھ

شجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں

حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہے

ایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں

ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انہیں سے پوچھو

دل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں

یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیں

گر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں

دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیل

ہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں

پر غبارئ جہاں سے نہیں سدھ میرؔ ہمیں

گرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…