غزل1 منٹ کا مطالعہ

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

قاصد جو واں سے آیا تو شرمندہ میں ہوا

بیچارہ گریہ ناک گریباں دریدہ تھا

اک وقت ہم کو تھا سر گریہ کہ دشت میں

جو خار خشک تھا سو وہ طوفاں رسیدہ تھا

جس صید گاہ عشق میں یاروں کا جی گیا

مرگ اس شکار گہ کا شکار رمیدہ تھا

کوری چشم کیوں نہ زیارت کو اس کی آئے

یوسف سا جس کو مد نظر نوردیدہ تھا

افسوس مرگ صبر ہے اس واسطے کہ وہ

گل ہائے باغ عشرت دنیا نچیدہ تھا

مت پوچھ کس طرح سے کٹی رات ہجر کی

ہر نالہ میری جان کو تیغ کشیدہ تھا

حاصل نہ پوچھ گلشن مشہد کا بوالہوس

یاں پھل ہر اک درخت کا حلق بریدہ تھا

دل بے قرار گریۂ خونیں تھا رات میرؔ

آیا نظر تو بسمل در خوں تپیدہ تھا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…