غزل1 منٹ کا مطالعہ

کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے

کہاں تک غیر جاسوسی کے لینے کو لگا آوے

الٰہی اس بلائے ناگہاں پر بھی بلا آوے

رکا جاتا ہے جی اندر ہی اندر آج گرمی سے

بلا سے چاک ہی ہو جاوے سینہ ٹک ہوا آوے

ترا آنا ہی اب مرکوز ہے ہم کو دم آخر

یہ جی صدقے کیا تھا پھر نہ آوے تن میں یا آوے

یہ رسم آمد و رفت دیار عشق تازہ ہے

ہنسی وہ جائے میری اور رونا یوں چلا آوے

اسیری نے چمن سے میری دل گرمی کو دھو ڈالا

وگرنہ برق جا کر آشیاں میرا جلا آوے

امید رحم ان سے سخت نافہمی ہے عاشق کی

یہ بت سنگیں دلی اپنی نہ چھوڑیں گر خدا آوے

یہ فن عشق ہے آوے اسے طینت میں جس کی ہو

تو زاہد پیر نابالغ ہے بے تہ تجھ کو کیا آوے

ہمارے دل میں آنے سے تکلف غم کو بے جا ہے

یہ دولت خانہ ہے اس کا وہ جب چاہے چلا آوے

برنگ بوئے غنچہ عمر اک ہی رنگ میں گزرے

میسر میرؔ صاحب گر دل بے مدعا آوے

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…