غزل1 منٹ کا مطالعہ

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا

جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا

یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت

زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا

تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے

جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا

میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی

آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا

غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے

بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا

مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی

گو سر کو کھو رہے گا پر اس کو پا رہے گا

عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گزری

بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا

دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر

بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا

کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے

قید حیات میں ہے تو میرؔ آ رہے گا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…