غزل2 منٹ کا مطالعہ

فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو

فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو

نکالا سر سے میرے جائے مو خار مغیلاں کو

وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو

کہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو

نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نے

بنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو

ہوئے تھے جیسے مر جاتے پر اب تو سخت حسرت ہے

کیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو

کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں

کہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو

تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سے

تماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو

لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے

نہیں پروئے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو

ہوائے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی

دم افسردہ کر دے منجمد رشحات باراں کو

جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوؤں کی گرم جوشی سے

اس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو

وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک

سدا زنار ہی تسبیح ہے اس نا مسلماں کو

غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جو نے

ملا پاؤں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو

نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے

کہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو

زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کر

نہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو

بنے نا واقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں

دہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روئے خنداں کو

نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نے

کیا ہے مضطرب ہر ذرۂ گرد بیاباں کو

کسی کے واسطے رسوائے عالم ہو پہ جی میں رکھ

کہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو

گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر

ٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو

غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے

چلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو

وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سر سبزی نہ کی حاصل

ملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو

ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بن

نہ دے برباد حسرت کشتۂ سر در گریباں کو

غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماں

کہوں اے ہم نشیں تا چند غم ہاے فراواں کو

گل و سرو و سمن گر جائیں گے مت سیر گلشن کر

ملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو

بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منہ پہ اے بجلی

نہ چشم کم سے دیکھ اس یادگار چشم گریاں کو

مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل

کہ بے فکر سخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

غزل

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

غزل

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

غزل

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

غزل

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

غزل

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…