وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو
کہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
ہوئے تھے جیسے مر جاتے پر اب تو سخت حسرت ہے
کیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں
کہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے
نہیں پروئے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہوائے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی
دم افسردہ کر دے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوؤں کی گرم جوشی سے
اس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک
سدا زنار ہی تسبیح ہے اس نا مسلماں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے
کہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
بنے نا واقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں
دہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روئے خنداں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر
ٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے
چلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
گل و سرو و سمن گر جائیں گے مت سیر گلشن کر
ملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منہ پہ اے بجلی
نہ چشم کم سے دیکھ اس یادگار چشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل
کہ بے فکر سخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو