بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے

بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے

دکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے

اس منزل جہاں کے باشندے رفتنی ہیں

ہر اک کے ہاں سفر کا سامان ہو رہا ہے

اچھا لگا ہے شاید آنکھوں میں یار اپنی

آئینہ دیکھ کر کچھ حیران ہو رہا ہے

گل دیکھ کر چمن میں تجھ کو کھلا ہی جا ہے

یعنی ہزار جی سے قربان ہو رہا ہے

حال زبون اپنا پوشیدہ کچھ نہ تھا تو

سنتا نہ تھا کہ یہ صید بے جان ہو رہا ہے

ظالم ادھر کی سدھ لے جوں شمع صبح گاہی

ایک آدھ دم کا عاشق مہمان ہو رہا ہے

قرباں گہ محبت وہ جا ہے جس میں ہر سو

دشوار جان دینا آسان ہو رہا ہے

ہر شب گلی میں اس کی روتے تو رہتے ہو تم

اک روز میرؔ صاحب طوفان ہو رہا ہے

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

ہو گئی شہر شہر رسوائی

اے مری موت تو بھلی آئی

Ho gayi shehar shehar ruswai

غزل

اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں

نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں

Ab aankhon mein khoon dam ba dam dekhte hain

غزل

دل گئے آفت آئی جانوں پر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

Dil gaye aafat aayi jaanon par

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…