اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں

اب آنکھوں میں خوں دم بہ دم دیکھتے ہیں

نہ پوچھو جو کچھ رنگ ہم دیکھتے ہیں

جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد

ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں

گہے داغ رہتا ہے دل گا جگر خوں

ان آنکھوں سے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں

اگر جان آنکھوں میں اس بن ہے تو ہم

ابھی اور بھی کوئی دم دیکھتے ہیں

لکھیں حال کیا اس کو حیرت سے ہم تو

گہے کاغذ و گہہ قلم دیکھتے ہیں

وفا پیشگی قیس تک تھی بھی کچھ کچھ

اب اس طور کے لوگ کم دیکھتے ہیں

کہاں تک بھلا روؤ گے میرؔ صاحب

اب آنکھوں کے گرد اک ورم دیکھتے ہیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

بے یار شہر دل کا ویران ہو رہا ہے

دکھلائی دے جہاں تک میدان ہو رہا ہے

Be-yaar shahr-e-dil ka veeran ho raha hai

غزل

ہو گئی شہر شہر رسوائی

اے مری موت تو بھلی آئی

Ho gayi shehar shehar ruswai

غزل

دل گئے آفت آئی جانوں پر

یہ فسانہ رہا زبانوں پر

Dil gaye aafat aayi jaanon par

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…