تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

تم بھی رہنے لگے خفا صاحب

کہیں سایہ مرا پڑا صاحب

ہے یہ بندہ ہی بے وفا صاحب

غیر اور تم بھلے بھلا صاحب

کیوں الجھتے ہو جنبش لب سے

خیر ہے میں نے کیا کیا صاحب

کیوں لگے دینے خط آزادی

کچھ گنہ بھی غلام کا صاحب

ہائے ری چھیڑ رات سن سن کے

حال میرا کہا کہ کیا صاحب

دم آخر بھی تم نہیں آتے

بندگی اب کہ میں چلا صاحب

ستم آزار ظلم و جور و جفا

جو کیا سو بھلا کیا صاحب

کس سے بگڑے تھے کس پہ غصہ تھا

رات تم کس پہ تھے خفا صاحب

کس کو دیتے تھے گالیاں لاکھوں

کس کا شب ذکر خیر تھا صاحب

نام عشق بتاں نہ لو مومنؔ

کیجئے بس خدا خدا صاحب

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…