قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

سچ تو یوں ہے بری بلا ہے عشق

اثر غم ذرا بتا دینا

وہ بہت پوچھتے ہیں کیا ہے عشق

آفت جاں ہے کوئی پردہ نشیں

کہ مرے دل میں آ چھپا ہے عشق

بوالہوس اور لاف جانبازی

کھیل کیسا سمجھ لیا ہے عشق

وصل میں احتمال شادی مرگ

چارہ گر درد بے دوا ہے عشق

سوجھے کیونکر فریب دل داری

دشمن آشنا نما ہے عشق

کس ملاحت سرشت کو چاہا

تلخ کامی پہ بامزا ہے عشق

ہم کو ترجیح تم پہ ہے یعنی

دل ربا حسن و جاں ربا ہے عشق

دیکھ حالت مری کہیں کافر

نام دوزخ کا کیوں دھرا ہے عشق

دیکھیے کس جگہ ڈبو دے گا

میری کشتی کا ناخدا ہے عشق

اب تو دل عشق کا مزا چکھا

ہم نہ کہتے تھے کیوں برا ہے عشق

آپ مجھ سے نباہیں گے سچ ہے

باوفا حسن و بے وفا ہے عشق

میں وہ مجنون وحشت آرا ہوں

نام سے میرے بھاگتا ہے عشق

قیس و فرہاد و وامق و مومنؔ

مر گئے سب ہی کیا وبا ہے عشق

Momin Khan Momin

Momin Khan Momin

مومن خاں مومن

1800–1852
Classical

A master of the classical Urdu ghazal and a contemporary of Ghalib — Momin was the poet of love's tender ache, whose verses Ghalib himself is said to have envied.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از Momin Khan Momin

Ghazal

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

پر یہ ڈرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو یار آ جائے

Main agar aap se jaaon to qaraar aa jaaye

Ghazal

جلتا ہوں ہجر شاہد و یاد شراب میں

شوق ثواب نے مجھے ڈالا عذاب میں

Jalta hun hijar-e-shaahid-o-yaad-e-sharaab mein

Ghazal

گر غیر کے گھر سے نہ دل آرام نکلتا

دم کاہے کو یوں اے دل ناکام نکلتا

Gar ghair ke ghar se na dil-aaraam nikalta

Ghazal

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

اے شب ہجر تیرا کالا منہ

Chal pare hat mujhe na dikhla munh

Ghazal

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

ہم نے بھی جان دی پر آہ نہ کی

Dil mein us shokh ke jo raah na ki

Ghazal

غصہ بیگانہ وار ہونا تھا

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

Gussa begaana-waar hona tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…