لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

پر تمامی عتاب ہیں دونوں

رونا آنکھوں کا روئیے کب تک

پھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں

ہے تکلف نقاب وے رخسار

کیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں

تن کے معمورے میں یہی دل و چشم

گھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں

کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سے

جگر و دل کباب ہیں دونوں

سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں

جیسے مست شراب ہیں دونوں

پاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیں

اب تو سرمست خواب ہیں دونوں

ایک سب آگ ایک سب پانی

دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں

بحث کاہے کو لعل و مرجاں سے

اس کے لب ہی جواب ہیں دونوں

آگے دریا تھے دیدۂ تر میرؔ

اب جو دیکھو سراب ہیں دونوں

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…