چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

امکاں نہیں جیتے جی ہو اس قید سے آزاد

مر جائے تبھی چھوٹے گرفتار محبت

تقصیر نہ خوباں کی نہ جلاد کا کچھ جرم

تھا دشمن جانی مرا اقرار محبت

ہر جنس کے خواہاں ملے بازار جہاں میں

لیکن نہ ملا کوئی خریدار محبت

اس راز کو رکھ جی ہی میں تا جی بچے تیرا

زنہار جو کرتا ہو تو اظہار محبت

ہر نقش قدم پر ترے سر بیچے ہیں عاشق

ٹک سیر تو کر آج تو بازار محبت

کچھ مست ہیں ہم دیدۂ پر خون جگر سے

آیا یہی ہے ساغر سرشار محبت

بیکار نہ رہ عشق میں تو رونے سے ہرگز

یہ گریہ ہی ہے آب رخ کار محبت

مجھ سا ہی ہو مجنوں بھی یہ کب مانے ہے عاقل

ہر سر نہیں اے میرؔ سزاوار محبت

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Ghazal

کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ

جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

Kya moaafiq ho dawa ishq ke beemaar ke saath

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…