کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی
دھوم ہے پھر بہار آنے کی
دل کا اس کنج لب سے دے ہے نشاں
بات لگتی تو ہے ٹھکانے کی
وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور
ہے یہ تقریب جی کے جانے کی
تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش شوق
تھی خبر گرم اس کے آنے کی
خضر اس خط سبز پر تو موا
دھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی
دل صد چاک باب زلف ہے لیک
باؤ سی بندھ رہی ہے شانے کی
کسو کم ظرف نے لگائی آہ
تجھ سے مے خانے کے جلانے کی
ورنہ اے شیخ شہر واجب تھی
جام داری شراب خانے کی
جو ہے سو پائمال غم ہے میرؔ
چال بے ڈول ہے زمانے کی

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از MIR TAQI MIR
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…