کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا

کیا میں بھی پریشانیٔ خاطر سے قریں تھا

آنکھیں تو کہیں تھیں دل غم دیدہ کہیں تھا

کس رات نظر کی ہے سوئے چشمک انجم

آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا

آیا تو سہی وہ کوئی دم کے لیے لیکن

ہونٹوں پہ مرے جب نفس باز پسیں تھا

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں تن پہ رکھا ہاتھ

جو درد و الم تھا سو کہے تو کہ وہیں تھا

جانا نہیں کچھ جز غزل آ کر کے جہاں میں

کل میرے تصرف میں یہی قطعہ زمیں تھا

نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انھوں کا

جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیر نگیں تھا

مسجد میں امام آج ہوا آ کے وہاں سے

کل تک تو یہی میرؔ خرابات نشیں تھا

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

کہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

Ghazal Mir ki kab parhai nahi

غزل

کرے کیا کہ دل بھی تو مجبور ہے

زمیں سخت ہے آسماں دور ہے

Kare kya ke dil bhi to majboor hai

غزل

یا رب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

Ya rab koi ho ishq ka bimar na howe

غزل

ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

Hai ghazal Mir yeh Shifai ki

غزل

چوری میں دل کی وہ ہنر کر گیا

دیکھتے ہی آنکھوں میں گھر کر گیا

Chori mein dil ki woh hunar kar gaya

غزل

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

رات کو سینہ بہت کوٹا گیا

Dil jo tha ek aabla phoota gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…