Jin Ke Liye Apne To Yun Jaan Nikalte Hain

جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں

اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں

کیا تیر ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے

جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے

دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں

گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت دل آنکھوں سے

یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں

کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش

اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں

جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کر

وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں

سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے

برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں

ان آئینہ رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیں

جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…