Jhamke Dikha Ke Toor Ko Jin Ne Jala Diya

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیم

کیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا

اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پر

گو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا

جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کی

دل ریزۂ خزف کی طرح میں اٹھا دیا

تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کی

جب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا

گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میں

اب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا

وہ آگ ہو رہا ہے خدا جانے غیر نے

میری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا

اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاش

سو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا

اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہی

ٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا

تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑی

کڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا

کی چشم تو نے باز کہ کھولا در ستم

کس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا

کیا کیا زیان میرؔ نے کھینچے ہیں عشق میں

دل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Ghazal

شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت

مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت

Sher ke parde mein main ne gham sunaaya hai bahut

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…