Ishq Mein Zillat Hui Khiffat Hui Tohmat Hui

عشق میں ذلت ہوئی خفت ہوئی تہمت ہوئی

آخر آخر جان دی یاروں نے یہ صحبت ہوئی

عکس اس بے دید کا تو متصل پڑتا تھا صبح

دن چڑھے کیا جانوں آئینے کی کیا صورت ہوئی

لوح سینہ پر مری سو نیزۂ خطی لگے

خستگی اس دل شکستہ کی اسی بابت ہوئی

کھولتے ہی آنکھیں پھر یاں موندنی ہم کو پڑیں

دید کیا کوئی کرے وہ کس قدر مہلت ہوئی

پاؤں میرا کلبۂ احزاں میں اب رہتا نہیں

رفتہ رفتہ اس طرف جانے کی مجھ کو لت ہوئی

مر گیا آوارہ ہو کر میں تو جیسے گرد باد

پر جسے یہ واقعہ پہنچا اسے وحشت ہوئی

شاد و خوش طالع کوئی ہوگا کسو کو چاہ کر

میں تو کلفت میں رہا جب سے مجھے الفت ہوئی

دل کا جانا آج کل تازہ ہوا ہو تو کہوں

گزرے اس بھی سانحے کو ہم نشیں مدت ہوئی

شوق دل ہم نا توانوں کا لکھا جاتا ہے کب

اب تلک آپھی پہنچنے کی اگر طاقت ہوئی

کیا کف دست ایک میداں تھا بیاباں عشق کا

جان سے جب اس میں گزرے تب ہمیں راحت ہوئی

یوں تو ہم عاجز ترین خلق عالم ہیں ولے

دیکھیو قدرت خدا کی گر ہمیں قدرت ہوئی

گوش زد چٹ پٹ ہی مرنا عشق میں اپنے ہوا

کس کو اس بیماری جانکاہ سے فرصت ہوئی

بے زباں جو کہتے ہیں مجھ کو سو چپ رہ جائیں گے

معرکے میں حشر کے گر بات کی رخصت ہوئی

ہم نہ کہتے تھے کہ نقش اس کا نہیں نقاش سہل

چاند سارا لگ گیا تب نیم رخ صورت ہوئی

اس غزل پر شام سے تو صوفیوں کو وجد تھا

پھر نہیں معلوم کچھ مجلس کی کیا حالت ہوئی

کم کسو کو میرؔ کی میت کی ہاتھ آئی نماز

نعش پر اس بے سر و پا کی بلا کثرت ہوئی

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…