Hum Aap Hi Ko Apna Maqsood Jaante Hain
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا
اس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانے
اہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے
ناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے
اس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا
راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں
بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا
مجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہ
جی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
View Full Profile →More by MIR TAQI MIR
← Previous Ghazal
Ba-Rang-e-Boo-e-Gul Is Baagh Ke Hum Aashna Hote
Next Ghazal →
Gusse Se Uth Chale Ho To Daaman Ko Jhaar Kar