اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا

اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار

سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا

ہم رہروان راہ فنا ہیں برنگ عمر

جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا

پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل

تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا

اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر

دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا

اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک

پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا

ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے

آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا

گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہ کن

سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا

ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر

پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ

نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…