گل کو محبوب ہم قیاس کیا
گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نکلا بہت جو پاس کیا
دل نے ہم کو مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
کچھ نہیں سوجھتا ہمیں اس بن
شوق نے ہم کو بے حواس کیا
عشق میں ہم ہوئے نہ دیوانے
قیس کی آبرو کا پاس کیا
دور سے چرخ کے نکل نہ سکے
ضعف نے ہم کو مورطاس کیا
صبح تک شمع سر کو دھنتی رہی
کیا پتنگے نے التماس کیا
تجھ سے کیا کیا توقعیں تھیں ہمیں
سو ترے ظلم نے نراس کیا
ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں
میرؔ کو تم عبث اداس کیا

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از MIR TAQI MIR
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…