غزل1 منٹ کا مطالعہ

سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا

سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا

جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا

سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا

جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا

بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار

ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دلگیر کا

کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا

کام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا

رہ گزر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر

اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا

بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے درد سر

کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا

نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم

قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا

جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے

تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا

خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک

مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا

لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے

فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا

گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا

عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا

کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں

رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…