غزل1 منٹ کا مطالعہ

غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا

غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا

اس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا

رنگ اڑ چلا چمن میں گلوں کا تو کیا نسیم

ہم کو تو روزگار نے بے بال و پر کیا

نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میں

آخر انہیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا

مرتا ہوں جان دیں ہیں وطن داریوں پہ لوگ

اور سنتے جاتے ہیں کہ ہر اک نے سفر کیا

کیا جانوں بزم عیش کہ ساقی کی چشم دیکھ

میں صحبت شراب سے آگے سفر کیا

جس دم کہ تیغ عشق کھنچی بوالہوس کہاں

سن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا

دل زخمی ہو کے تجھ تئیں پہنچا تو کم نہیں

اس نیم کشتہ نے بھی قیامت جگر کیا

ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست ناز

ذوق خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا

وہ دشت خوف ناک رہا ہے مرا وطن

سن کر جسے خضر نے سفر سے حذر کیا

کچھ کم نہیں ہیں شعبدہ بازوں سے میگسار

دارو پلا کے شیخ کو آدم سے خر کیا

ہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گرد باد کے

کیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا

لکنت تری زبان کی ہے سحر جس سے شوخ

یک حرف نیم گفتہ نے دل پر اثر کیا

بے شرم محض ہے وہ گنہ گار جن نے میرؔ

ابر کرم کے سامنے داماں تر کیا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…