پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے
پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے
اب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سوئیے
رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہم
آتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے
اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میں
بے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھوئیے
کس طور آنسوؤں میں نہاتے ہیں غم کشاں
اس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبوئیے
مطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طور
ہم مارتے پھرے ہیں یو نہیں ٹپے ٹویئے
اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
آلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میرؔ
آب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھوئیے

MIR TAQI MIR
میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از MIR TAQI MIR
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…