غزل· 1 منٹ کا مطالعہ
نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
بس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
ایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کی
دیدۂ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا
گل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیم
مدتیں گزریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا
دور تجھ سے میرؔ نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخ
کل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا
کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر
One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.
← مکمل پروفائل دیکھیںمزید از میر تقی میر
Comments
Log in to leave a comment.
Loading comments…