غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

اس آئنے کے مانند زنگار جس کو کھاوے

کام اپنا اس کے غم میں دیدار تک نہ پہنچا

جوں نقش پا ہے غربت حیران کار اس کی

آوارہ ہو وطن سے جو یار تک نہ پہنچا

لبریز شکوہ تھے ہم لیکن حضور تیرے

کار شکایت اپنا گفتار تک نہ پہنچا

لے چشم نم رسیدہ پانی چوانے کوئی

وقت اخیر اس کے بیمار تک نہ پہنچا

یہ بخت سبز دیکھو باغ زمانہ میں سے

پژمردہ گل بھی اپنی دستار تک نہ پہنچا

مستوری خوبروئی دونوں نہ جمع ہوویں

خوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا

یوسف سے لے کے تا گل پھر گل سے لے کے تا‌ شمع

یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا

افسوس میرؔ وے جو ہونے شہید آئے

پھر کام ان کا اس کی تلوار تک نہ پہنچا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

غزل

گل شرم سے بہہ جائے گا گلشن میں ہو کر آب سا

برقعے سے گر نکلا کہیں چہرہ ترا مہتاب سا

Gul sharm se beh jaye ga gulshan mein ho kar aab sa

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…