غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

محبت کا جب روز بازار ہوگا

محبت کا جب روز بازار ہوگا

بکیں گے سر اور کم خریدار ہوگا

تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بن

کبھی یہ قیامت طرحدار ہوگا

صبا موئے‌ زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہے

کہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہوگا

مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھ

کہوں گا تو لڑنے کو تیار ہوگا

نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میں

نہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہوگا

یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھا

قیامت کو کس کس سے خوں دار ہوگا

عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائل

ملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا

نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوں

ابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہوگا

کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانب

کبھو تو قیامت طرحدار ہوگا

زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دن

یہ دیوار کا سایہ دیوار ہوگا

نہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گا

ترے دام میں جو گرفتار ہوگا

نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاں

جو ہوگا تو جیسے گنہ گار ہوگا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

غزل

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…