میرے سنگ مزار پر فرہاد

میرے سنگ مزار پر فرہاد

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال

جان کے ساتھ ہے دل ناشاد

موند آنکھیں سفر عدم کا کر

بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد

فکر تعمیر میں نہ رہ منعم

زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد

خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں

کس خرابے میں ہم ہوئے آباد

سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد

نہ سنو گے یہ نالہ و فریاد

لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم

خاک کس دل جلے کی کی برباد

بھولا جائے ہے غم بتاں میں جی

غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد

تیرے قید قفس کا کیا شکوہ

نالے اپنے سے اپنے سے فریاد

ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز

باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد

ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں

اپنی قید حیات سے آزاد

ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح

جانا سو جائے اس کی ہے معتاد

نہیں صورت پذیر نقش اس کا

یوں ہی تصدیق کھینچے ہے بہزاد

خوب ہے خاک سے بزرگوں کی

چاہنا تو مرے تئیں امداد

پر مروت کہاں کی ہے اے میرؔ

تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد

نامرادی ہو جس پہ پروانہ

وہ جلاتا پھرے چراغ مراد

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

آیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

Shab dard-o-gham se arsa mere ji pe tang tha

Ghazal

چھٹتا ہی نہیں ہو جسے آزار محبت

مایوس ہوں میں بھی کہ ہوں بیمار محبت

Chhutta hi nahin ho jise aazaar-e-mohabbat

Ghazal

جفائیں دیکھ لیاں بے وفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

Jafaaen dekh liyaan be-wafaaiyaan dekheen

Ghazal

آگے جمال یار کے معذور ہو گیا

گل اک چمن میں دیدۂ بے نور ہو گیا

Aage jamaal-e-yaar ke mazoor ho gaya

Ghazal

دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا

وابستہ ترے مو کا پریشان رہے گا

Dekhe ga jo tujh-ru ko so hairaan rahe ga

Ghazal

ہم ہیں مجروح ماجرا ہے یہ

وہ نمک چھڑکے ہے مزہ ہے یہ

Hum hain majrooh maajra hai yeh

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…