غزل· 1 منٹ کا مطالعہ

لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا

لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا

اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا

دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا

ٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا

اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولت

ورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا

مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراں

کل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا

اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشت

میں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا

بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا

پر تو نے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا

روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھو

میں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا

شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو

ناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا

سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میں

سینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا

سو بخت تیرہ سے ہوں پامالیٔ صبا میں

اس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا

یہ سر گذشت میری افسانہ جو ہوئی ہے

مذکور اس کا اس کے کوچے میں جا بجا تھا

سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھ

بے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا

کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاں

احوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا

آنکھیں مری کھلیں جب جی میرؔ کا گیا تب

دیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں

وقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں

Din nahin raat nahin subah nahin shaam nahin

غزل

گلا نہیں ہے ہمیں اپنی جاں گدازی کا

جگر پہ زخم ہے اس کی زباں درازی کا

Gila nahin hai hamein apni jaan gudazi ka

غزل

خاطر کرے ہے جمع وہ ہر بار ایک طرح

کرتا ہے چرخ مجھ سے نئے یار ایک طرح

Khatir kare hai jama woh har baar ek tarah

غزل

دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی

صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

Do din se kuch bani thi so phir shab bigar gayi

غزل

پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا

نالہ مرا چمن کی دیوار تک نہ پہنچا

Paigham-e-Gham-e-Jigar Ka Gulzar Tak Na Pahuncha

غزل

کب تلک یہ ستم اٹھائیے گا

ایک دن یوں ہی جی سے جائیے گا

Kab talak yeh sitam uthaiye ga

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…