کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق

جان کا روگ ہے بلا ہے عشق

عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو

سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق

عشق ہے طرز و طور عشق کے تئیں

کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق

عشق معشوق عشق عاشق ہے

یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق

گر پرستش خدا کی ثابت کی

کسو صورت میں ہو بھلا ہے عشق

دل کش ایسا کہاں ہے دشمن جاں

مدعی ہے پہ مدعا ہے عشق

ہے ہمارے بھی طور کا عاشق

جس کسی کو کہیں ہوا ہے عشق

کوئی خواہاں نہیں محبت کا

تو کہے جنس ناروا ہے عشق

میرؔ جی زرد ہوتے جاتے ہو

کیا کہیں تم نے بھی کیا ہے عشق

MIR TAQI MIR

MIR TAQI MIR

میر تقی میر

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از MIR TAQI MIR

Ghazal

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

آئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

Jhamke dikha ke Toor ko jin ne jala diya

Ghazal

لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا

کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا

Lazzat se nahin khaali jaanon ka khapa jaana

Ghazal

جب رونے بیٹھتا ہوں تب کیا کسر رہے ہے

رومال دو دو دن تک جوں ابر تر رہے ہے

Jab rone baithta hun tab kya kasr rahe hai

Ghazal

بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

سو پھر بگڑی پہلی ہی صحبت کے بعد

Bani thi kuch ik us se muddat ke baad

Ghazal

گل کو محبوب ہم قیاس کیا

فرق نکلا بہت جو پاس کیا

Gul ko mahboob hum qiyaas kiya

Ghazal

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

جمال یار نے منہ اس کا خوب لال کیا

Chaman mein gul ne jo kal dawa-e-jamaal kiya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…