غزل1 منٹ کا مطالعہ

ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش

ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش

کس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش

ابروئے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب

موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش

ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام

کیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش

حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ

تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش

کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا

اک سادہ گل فروش کا آ کر سبد بہ دوش

جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار

آج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش

شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے

بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش

آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو

عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش

جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا

وے صحبتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناؤ نوش

جز لالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں

ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بہ دوش

جھومے ہے بید جائے جوانان میگسار

بالائے خم ہے خشت سر پیر مے فروش

میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے

پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش

کسی بھی لفظ پر کلک کر کے اس کا مطلب دیکھیں

میر تقی میر — شاعر

میر تقی میر

1723–1810

اردو غزل کے سب سے بڑے استادوں میں سے ایک — دردِ دل کے شاعر، جن کی نرم اور غم گین آواز نے زبان کو نیا روپ دیا۔

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از میر تقی میر

غزل

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

غزل

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

غزل

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

غزل

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

غزل

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

غزل

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…

ٹِپ: ہیڈر میں موجود آئیکن سے ڈارک موڈ آن کریں