ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے

ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے

سچ بتاؤ کہ اس چاندنی رات میں کس سے وعدہ کیا ہے کہاں جاؤ گے

دیکھو اچھا نہیں یہ تمہارا چلن یہ جوانی کے دن اور یہ شوخیاں

یوں نہ آیا کرو بال کھولے ہوئے ورنہ دنیا میں بدنام ہو جاؤ گے

آج جاؤ نہ بے چین کر کے مجھے جان جاں دل دکھانا بری بات ہے

ہم تڑپتے رہیں گے یہاں رات بھر تم تو آرام کی نیند سو جاؤ گے

پاس آؤ تو تم کو لگائیں گلے مسکراتے ہو کیوں دور سے دیکھ کر

یوں ہی گزرے اگر یہ جوانی کے دن ہم بھی پچھتائیں گے تم بھی پچھتاؤ گے

بے وفا بے مروت ہے ان کی نظر یہ بدل جائیں گے زندگی لوٹ کر

حسن والوں سے دل کو لگایا اگر اے فناؔ دیکھو بے موت مر جاؤ گے

FANA BULANDSHAHRI

FANA BULANDSHAHRI

فنا بلند شہری

Beloved Sufi poet of Urdu, best known for the immortal couplet "Mere Rashk-e-Qamar" — verses of love and devotion that still move listeners across generations.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از FANA BULANDSHAHRI

Ghazal

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں

کفر کو پائیدار کرتے ہیں

Dil buton pe nisaar karte hain

Ghazal

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

بس اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا کرم ہے

Hai wajah koi khaas meri aankh jo nam hai

Ghazal

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں

ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں

Aankh uthi mohabbat ne angrai li, dil ka sauda hua chandni raat mein

Ghazal

آپ بیٹھے ہیں بالیں پہ میری موت کا زور چلتا نہیں ہے

موت مجھ کو گوارا ہے لیکن کیا کروں دم نکلتا نہیں ہے

Aap baithe hain baalin pe meri, maut ka zor chalta nahi hai

Ghazal

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا

Mere rashk-e-qamar tu ne pahli nazar jab nazar se milai maza aa gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…