آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں

آنکھ اٹھی محبت نے انگڑائی لی دل کا سودا ہوا چاندنی رات میں

ان کی نظروں نے کچھ ایسا جادو کیا لٹ گئے ہم تو پہلی ملاقات میں

ساتھ اپنا وفا میں نہ چھوٹے کبھی پیار کی ڈور بندھ کر نہ ٹوٹے کبھی

چھوٹ جائے زمانہ کوئی غم نہیں ہاتھ تیرا رہے بس مرے ہاتھ میں

رت ہے برسات کی دیکھو ضد مت کرو رات اندھیری ہے بادل ہیں چھائے ہوئے

رک بھی جاؤ صنم تم کو میری قسم اب کہاں جاؤ گے ایسی برسات میں

ہے تیری یاد اس دل میں لپٹی ہوئی ہر گھڑی ہے تصور ترے حسن کا

تیری الفت کا پہرہ لگا ہے صنم کون آئے گا میرے خیالات میں

FANA BULANDSHAHRI

FANA BULANDSHAHRI

فنا بلند شہری

Beloved Sufi poet of Urdu, best known for the immortal couplet "Mere Rashk-e-Qamar" — verses of love and devotion that still move listeners across generations.

← مکمل پروفائل دیکھیں

مزید از FANA BULANDSHAHRI

Ghazal

دل بتوں پہ نثار کرتے ہیں

کفر کو پائیدار کرتے ہیں

Dil buton pe nisaar karte hain

Ghazal

ہے وجہ کوئی خاص مری آنکھ جو نم ہے

بس اتنا سمجھتا ہوں کہ یہ ان کا کرم ہے

Hai wajah koi khaas meri aankh jo nam hai

Ghazal

ہے کہاں کا ارادہ تمہارا صنم کس کے دل کو اداؤں سے بہلاؤ گے

سچ بتاؤ کہ اس چاندنی رات میں کس سے وعدہ کیا ہے کہاں جاؤ گے

Hai kahan ka irada tumhara sanam, kis ke dil ko adaaon se behlaoge

Ghazal

آپ بیٹھے ہیں بالیں پہ میری موت کا زور چلتا نہیں ہے

موت مجھ کو گوارا ہے لیکن کیا کروں دم نکلتا نہیں ہے

Aap baithe hain baalin pe meri, maut ka zor chalta nahi hai

Ghazal

میرے رشک قمر تو نے پہلی نظر جب نظر سے ملائی مزا آ گیا

برق سی گر گئی کام ہی کر گئی آگ ایسی لگائی مزا آ گیا

Mere rashk-e-qamar tu ne pahli nazar jab nazar se milai maza aa gaya

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…