Ghazal1 min read

Waisa Kahan Hai Hum Se Jaisa Ke Aage Tha Tu

ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو

اوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو

چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سب

حاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو

جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہر سحر کے

یا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو

آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبت

کڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو

تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہے

دس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو

تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیے

گل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو

دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائی

دریائے حسن وہ مہ کشتی بکف گدا تو

ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کا

ہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو

عالم ہے شوق کشتہ خلقت ہے تیری رفتہ

جانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو

منہ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہے

پر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو

آتی بہ خود نہیں ہے باد بہار اب تک

دو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو

کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملانا

کرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو

گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہے

ظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو

کہہ سانجھ کے موئے کو اے میرؔ روئیں کب تک

جیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

Ghazal

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

Ghazal

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

Ghazal

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

Ghazal

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

Ghazal

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…