Ghazal1 min read

Sozish-e-Dil Se Muft Jalte Hain

سوزش دل سے مفت گلتے ہیں

داغ جیسے چراغ جلتے ہیں

اس طرح دل گیا کہ اب تک ہم

بیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں

بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیں

جیسے دریا کہیں ابلتے ہیں

دم آخر ہے بیٹھ جا مت جا

صبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں

تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیں

ایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں

فتنہ در سر بتان حشر خرام

ہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں

نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباں

سوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں

اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑ

سانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں

تھے جو اغیار سنگ سینے کے

اب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں

شمع رو موم کے بنے ہیں مگر

گرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں

میرؔ صاحب کو دیکھیے جو بنے

اب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

رہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

Guzar jaan se aur dar kuch nahin

Ghazal

شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے

تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے

Shash jahat se is mein zalim boo-e-khoon ki raah hai

Ghazal

اب ضعف سے ڈھہتا ہے بیتابی شتابی کی

اس دل کے تڑپنے نے کیا خانہ خرابی کی

Ab zu'af se dhahta hai betabi shitabi ki

Ghazal

کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

Kali kehte hain us ka sa dahan hai

Ghazal

کیسا چمن اسیری میں کس کو ادھر خیال

پرواز خواب ہو گئی ہے بال و پر خیال

Kaisa chaman aseeri mein kis ko idhar khayal

Ghazal

دزدیدہ نگہ کرنا پھر آنکھ ملانا بھی

اس لوٹتے دامن کو پاس آ کے اٹھانا بھی

Duzdeeda nigah karna phir aankh milana bhi

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…