Ghazal1 min read

Shahr Se Yaar Sawar Hua Jo Sawad Mein Khoob Ghubaar Hai Aaj

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج

دشتی وحش و طیر اس کے سر تیزی ہی میں شکار ہے آج

بر افروختہ رخ ہے اس کا کس خوبی سے مستی میں

پی کے شراب شگفتہ ہوا ہے اس نو گل پہ بہار ہے آج

اس کا بحر حسن سراسر اوج و موج و تلاطم ہے

شوق کی اپنے نگاہ جہاں تک جاوے بوس و کنار ہے آج

آنکھیں اس کی لال ہوئیں ہیں اور چلے جاتے ہیں سر

رات کو دارو پی سویا تھا اس کا صبح خمار ہے آج

گھر آئے ہو فقیروں کے تو آؤ بیٹھو لطف کرو

کیا ہے جان بن اپنے کنے سو ان قدموں پہ نثار ہے آج

کیا پوچھو ہو سانجھ تلک پہلو میں کیا کیا تڑپا ہے

کل کی نسبت دل کو ہمارے بارے کچھ تو قرار ہے آج

خوب جو آنکھیں کھول کے دیکھا شاخ گل سا نظر آیا

ان رنگوں پھولوں میں ملا کچھ محو جلوۂ یار ہے آج

جذب عشق جدھر چاہے لے جائے ہے محمل لیلیٰ کا

یعنی ہاتھ میں مجنوں کے ناقے کی اس کے مہار ہے آج

رات کا پہنا ہار جو اب تک دن کو اتارا ان نے نہیں

شاید میرؔ جمال گل بھی اس کے گلے کا ہار ہے آج

Click on any word to see its meaning

MIR TAQI MIR — Poet

MIR TAQI MIR

1723–1810

One of the greatest masters of the Urdu ghazal — the poet of pain, whose tender, sorrowful voice shaped the language itself.

View Full Profile →

More by MIR TAQI MIR

Ghazal

کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں

چھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں

Kya kahein aatish-e-hijran se gale jaate hain

Ghazal

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

Sheikh ji aao musalla karo jaam karo

Ghazal

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

پھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

Samjhe the Mir hum ke yeh nasoor kam hua

Ghazal

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

رحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

Daaman wasee tha to kahe ko chashm-e-tarsa

Ghazal

دل کے معمورے کی مت کر فکر فرصت چاہیے

ایسے ویرانے کے اب بسنے کو مدت چاہیے

Dil ke maamooray ki mat kar fikr fursat chahiye

Ghazal

کیا دن تھے وے کہ یاں بھی دل آرمیدہ تھا

رو آشیاں طائر رنگ پریدہ تھا

Kya din thay way ke yaan bhi dil aarmida tha

Comments

Log in to leave a comment.
Loading comments…